اتراکھنڈ۔

ہاتھرس ریپ کیس: ایک جان لیوا حملہ اور تنہائی میں ادا کی گئیں آخری رسومات

Editor
October 08 2020 Updated: October 08 2020
0 0
ہاتھرس ریپ کیس: ایک جان لیوا حملہ اور تنہائی میں ادا کی گئیں آخری رسومات

 

  • ذشتہ ماہ ستمبر کے آخری دن انڈیا ایک پریشان کُن خبر سے بیدار ہوا۔ خبر یہ تھی کہ حکام نے ایک 19 سالہ دلت لڑکی، جس کی ایک دن قبل مبینہ طور پر گینگ ریپ کے بعد موت واقع ہو گئی تھی، کی آخری رسومات جبری طور پر ادا کر دی ہیں۔اس خبر نے عالمی سطح پر غم و غصہ کو جنم دیا اور انڈیا کے حکام پر یہ الزامات عائد کیے گئے کہ انھوں نے اس دلت لڑکی، جسے مبینہ طور پر اونچی ذات کے چار افراد نے مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنایا اور وہ دو ہفتوں تک زندگی کی جنگ لڑتی رہی، کو موت کے بعد بھی اُسی بے حسی اور کمتری کا نشانہ بنایا جس کا وہ تمام عمر سامنا کرتی رہی ہے۔انڈیا کی ریاست اُتر پردیش کے ہاتھرس ضلع کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس لڑکی کے اہلخانہ نے لڑکی کی آخری رسومات ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔واضح رہے کہ 19 سالہ لڑکی کو اسی ضلع ہاتھرس میں مبینہ گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔لیکن لڑکی کے اہلخانہ اور مقامی صحافیوں نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویوز میں پولیس کے دعوے کو رد کیا ہیں۔ اہلخانہ اور صحافی رات کے ڈھائی بجے اس گاؤں میں موجود تھے جہاں چتا کو آگ دی گئی۔میں نے حقیقت جاننے کے لیے کہ 29 ستمبر کی رات ہو اصل میں کیا ہوا تھا اترپردیش کے ضلع ہاتھرس کے گاؤں بھلگاری کا دورہ کیا ہے۔یہ بھی پڑھیےوہاں پہنچ کر جو حقیت مجھ پر عیاں ہوئی وہ ریاست کی طاقت اور اس کے چند پسماندہ ترین شہریوں کے مابین طاقت کے عدم توازن، حکام کی پروٹوکول کو نظرانداز کرنے اور غمزدہ خاندان کے دکھ کی پرواہ نہ کرنے کے ایک سانحہ کی شکل اختیار کرنے والی کہانی تھی۔لڑکی کی میت کہاں ہے؟مبینہ گینگ ریپ کے بعد ہلاک ہونے والی لڑکی کے چھوٹے بھائی کا کہنا ہے کہ ’میری بہن کی موت منگل 29 ستمبر کو صبح لگ بھگ سات بجے دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں ہوئی تھی۔ تقریباً نو بجے کے قریب انھوں نے ہمیں کہا کہ چند کاغذات پر دستخط کر دیں تاکہ لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جا سکے۔‘ان کے گھر میں فرش پر بیٹھے ہوئے اس لڑکی کے بھائی کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ وہ وقت تھا جب آخری مرتبہ ہم نے اس کی لاش دیکھی تھی۔‘ان کے گھر کا صحن درجنوں صحافیوں اور ہر سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں سے بھرا ہوا تھا جو اس سانحہ پر ان سے تعزیت کرنے آ رہے تھے۔لڑکی کو علی گڑھ سے دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال منتقل کرتے ہوئے اس کے والد اور چھوٹے بھائی کے علاوہ دو مرد رشتہ دار بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس سے قبل وہ 14 ستمبر سے میبنہ ریپ کا نشانہ بننے کے بعد سے علی گڑھ کے ہسپتال میں زیر علاج تھی۔اس لڑکی کے موت کے چند گھنٹوں بعد جب وہ ہپستال کے فارنزک شعبے میں یہ پوچھنے کے لیے گئے کہ انھیں لڑکی کی میت کب تک مل سکتی ہیں تو ہپستال انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے متضاد جوابات دیے گئے۔’ایک نے کہا کہ میت پہلے ہی لے جائی جا چکی ہے، دوسرے نے کہا کہ وہ (دہلی اور اترپردیش کے سرحدی شہر) نوایڈہ پہنچ چکی ہے، جبکہ تیسرے نے کہا کہ وہ ہاتھرس میں ہے۔'’میں نے ان سے پوچھا کہ وہ ہماری اجازت کے بنا کیسے میت لے جا سکتے ہیں؟‘جلد ہی اُن کے دیگر رشتہ دار بھی پہنچ گئے اور انھوں نے ہسپتال کے باہر مظاہرہ و احتجاج کرتے ہوئے میت ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے اس احتجاج میں انڈیا میں دلتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانی والی بھیم پارٹی کے کارکن بھی شامل ہو گئے۔جبکہ گاؤں میں موجود اہلخانہ نے پہلے ہی لڑکی کے موت پر ماتم کنی شروع کر دی تھی۔لڑکی کی بھابی کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے صبح فون کر کے بتایا تھا کہ وہ ہلاک ہو گئی ہے۔ وہ سب فون پر رو رہے تھے، سب نے یہاں بھی رونا شروع کر دیا تھا۔‘’ہم نے ان سے پوچھا کے آپ میت گھر کب لا رہے ہیں۔‘گاؤں واپسی کا سفرمتاثرہ لڑکی کے بھائی کا کہنا ہے کہ تقریباً رات ساڑھے نو بجے پولیس نے زبردستی اسے والد سمیت کالی جیپ میں ڈالا اور انھیں گاؤں واپس چھوڑنے نکل پڑے۔

WHAT'S YOUR REACTION?

  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0

COMMENTS